Brailvi Books

قسط 4: شوق علم دین تذکرہ امیرِ اہلسنّت
40 - 50
لیتاہے لیکن کبھی کبھار ''
کَلِّمُوْاالنَاسَ عَلٰی قَدْرِعُقُوْلِھِمْ
 (یعنی لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کرو) کے تَحت مجلسِ علماء میں خالص علمی وفقہی انداز میں بھی گفتگو فرماتے ہیں ۔ ایکعالِم صاحب کا بیان ہے کہ قبلہ امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُُ الْعالیہراہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں سفر کرتے ہوئے جب مرکز الاولیاء (لاہو ر)تشریف لائے تو آپ نے اہلِسنت کی مشہو ر درسگاہ جامعہ نظامیہ رَضَویہ میں بھی قدم رَنجہ فرمایا ۔ اس وقت میں دورہ حدیث شریف کا طالب العلم تھا ۔ جب امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُُ الْعالیہ ہمارے دَرَجے میں آئے تو اس وقت مفتی اعظم پاکستان مفتی عبدالقیوم ہزاروی علیہرحمۃ اللہ القوی درسِ حدیث دے رہے تھے۔ مفتی صاحب نے اتنی شفقت کا مظاہرہ کیا کہ کھڑے ہوکر امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُُ الْعالیہ کا استقبال کیا، آپ کو اپنے ہمراہ اپنی مسند پر بٹھایا اورطلبہ کو نصیحت کرنے کا فرمایا ۔امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُُ الْعالیہ نے مختصر وقت میں ایسا علمی ، ادبی اورفقہی بیان فرمایا کہ نہ صرف طلبہ بلکہ خود مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بے حد متاثر ہوئے اورگاہے بَگاہے امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُُ الْعالیہ کا ذکرِ خیر فرماتے رہتے۔
Flag Counter