| قسط 4: شوق علم دین تذکرہ امیرِ اہلسنّت |
آغاز میں شرکائے مَدَنی مذاکرہ سے کچھ اس طرح عاجزی بھرے اَلفاظ ارشادفرماتے ہیں : ''آپ سوالات کیجئے ،یادرہے کہ ہرسوال کا جواب وہ بھی باِلصَّواب (یعنی دُرُست) دے پاؤں، ضروری نہیں،معلوم ہوا تو عرض کرنے کی کوشش کروں گا ۔اگر مجھے بھول کرتا پائیں تو فوراً میری اِصلاح فرمادیجئے ،مجھے اپنے موقف پر بے جا اڑتا ہوا نہیں اِن شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ شکریہ کے ساتھ رجوع کرتا ہوا پائیں گے۔''
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مسا ئلِ تَصَوُّف
مسائلِ تصوّف واَخلاق میں بھی آپ مضبوط گَرِفت رکھتے ہیں ۔ تصوّف کی کتب اکثر آپ کے زیرِ مطالَعہ رہتی ہیں اوردیگر اسلامی بھائیوں کوبھی پڑھنے کی تلقین فرماتے رہتے ہیں ۔مُنْجِیَات مَثَلاً صبْر ، شُکْر ، تَوَکُّل، قناعَت اورخوف ورَجا وغیرہ کی تعریفات وغیرہ اورمہلِکات مَثَلاً جھوٹ، غیبت، بغض، کینہ اورغفلت وغیرہ کے اسباب وعلاج آسان وسہل طریقے سے بیان کرنا آپ کا امتیازی وصف ہے ۔
امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی عِلْمی گفتگو
عُموماً آپ کی گفتگو بالکل سادہ عام فہم اورواضح ہوتی ہے کہ ہرسننے والاسمجھ