شوقِ مطالعہ ، غوروتفکر اورجیّد عُلَمَاءِ کِرام سے تَحْقِیق وتَدْقِیق کی وجہ سے امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کو مسائلِ شَرِیعْہ کی کافی معلومات ہیں ۔ آپ کی تَحریر کردہ کُتُب مثلاً'' فیضانِ سنّت''،''نماز کے احکام''،''اسلامی بہنوں کی نماز''، ''چندے کے بارے میں سوال جواب''،'' رفیقُ الحَرَمین ''،'' رفیقُ المعتمرین'' نیز کفریہ کلمات اورپردہ وغیرہ کے موضوعات پر آپ کی تالیفات ، تَفَقُّہ فِی الدِّین میں آپ کے اعلیٰ مقام کا پتا دیتی ہیں۔خلیفہ محدثِ اعظم پاکستان،حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اشفاق صاحب مد ظلہ العالی لکھتے ہیں:آپ (یعنی امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ)نے اگرچہ فارغ التحصیل ہونے کی حد تک کسی مدرسہ میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ،مگر ذِمّہ داری کا کمال اِحساس فرماتے ہوئے کثرتِ مطالعہ ،بحث وتمحیص اور اکابر علماء کرام سے تحقیق وتدقیق کے ذریعہ سے مسائلِ شرعیہ پر عُبُور حاصل کر لیا ہے ۔امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی کتب کا مطالعہ ،اعلیٰ حضرت عظیم البرکت کے علمی فیضان کا ذریعہ ہے ۔ان کے مسلک پر تَصَلُّب(یعنی مضبوطی) ،شریعتِ مطہرہ کی پابندی ،رُوحانی عُرُوج کا سبب ہے ۔حج وعمرہ کے مسائل پر آپ کی تحریر کردہ کتاب