ايک اسلامی بھائی کا بيان ہے کہ4 شَوَّالُ الْمُکَرَّم 1427ھ ،نومبر 2006 ء بروزہفتہ میں امير اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العاليہ کے آستا نے پر بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا، ضَرورت کے تَحت اُٹھا تو اِس نیت کے ساتھ تَحریری صَفْحَات پَر قفلِ مدینہ عینک اور''دوقلم '' رکھ دئیے کہ صَفْحَات نہ اُڑیں ۔اتنے میں امير اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العاليہ تشریف لے آئے، آپ نے جب تَحریری صَفْحَات پَر قفلِ مدینہ عینک اور''دوقلم '' رکھے دیکھے توصَفْحَات پَرسے دو نوں قلم ہٹاتے ہوئے فرما نے لگے اگر آپ نے یہ اس نیّت سے رکھے کہ صَفْحَات نہ اُڑیں تو ایک عینک ہی کافی ہے ، دونوں قَلَم بغیر ضَرورت مَحسوس ہورہے ہیں لہٰذاء اَدَب کا تقا ضا یہ ہی ہے کہ قلم ہٹا دیئے جائيں۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو