Brailvi Books

قسط 4: شوق علم دین تذکرہ امیرِ اہلسنّت
28 - 50
علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : دو طَلَبہ علمِ دین حاصِل کرنے کیلئے پردیس گئے، دو سال تک دونوں ہم سبق رہے، جب وطن لوٹے تو ان میں ایک فَقِیہ (یعنی زبردست عالم ) بن چکے تھے جبکہ دوسرا علم و کمال سے خالی ہی رہا تھا۔ اُس شہر کے عُلَمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السلام نے اِس اَمْر پر خوب غَور و خَوض کیا، دونوں کے حُصولِ علم کے طریقہ کار ، اندازِ تکرار اور بیٹھنے کے اَطوار وغیرہ کے بارے میں تحقیق کی تو ایک بات جو کہ نُمایاں طور پر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ جو فَقِیہ بن کے پلٹے تھے اُن کا معمول یہ تھا کہ وہ سبق یاد کرتے وَقت قِبلہ رُوبیٹھا کرتے تھے جبکہ دوسرا جو کہ کَورے کا کَور ا پلٹا تھا وہ قبلہ کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھنے کا عادی تھا، چُنانچِہ تمام عُلَماء و فُقَہاءِ کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام اِس بات پرمُتَّفق ہوئے کہ یہ خوش نصیب اِستِقبالِ قِبلہ(یعنی قبلہ کی طرف رُخ کرنے) کے اِہْتِمام کی بَرَکت سے فَقِیہ بنے کیوں کہ بیٹھتے وقْت کَعْبۃُاللہ شریف کی سَمْت مُنہ رکھنا سنّت ہے۔ (تعلیم المتعلّم طریق التعلم ص ۶۷) 

(4) صُبْح کے وقت مُطالَعہ کرنابَہُت مُفِید ہے کیونکہ عُمُوماًاِس وَقت نیند کا غَلَبَہ نہیں ہوتا اورذہن زیادہ کام کرتا ہے ۔

(5) شوروغُل سے دُورپُر سکون جگہ پر بیٹھ کر مطالعہ کیجئے ۔