| قسط 4: شوق علم دین تذکرہ امیرِ اہلسنّت |
محدِّث ِ اعظم پاکستان حضرتِ مولانا سردار احمد قادری علیہ رحمۃ اللہ الھادی کو مطالعے کا اتنا شوق تھا کہ مسجد میں نمازِ باجماعت میں کچھ تاخیر ہوتی تو کسی کتاب کا مطالعہ کرنا شروع کر دیتے۔ جب آپ منظر الاسلام بریلی شریف میں زیر ِ تعلیم تھے تو ساتھی طلبہ کے سوجانے کے بعد بھی محلہ سوداگران میں لگی لالٹین کی روشنی میں اپناسبق یاد کیا کرتے تھے۔ آپ کے اساتذہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے آپ کے کمرے میں لالٹین کا بندوبست کردیا ۔
(سیرتِ صدرالشریعہ، ص۲۰۱،مطبوعہ مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور)
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ چند حکایات حُصول برکت کے لئے پیش کی گئی ہیں ،حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اکابرین علیہم رحمۃ اللہ المبین وقت کی دولت کوسامانِ آخرت بالخصوص علمِ دین کے انمول ہیروں کی خریداری میں صَرْف کیا کرتے تھے ۔