Brailvi Books

قسط 4: شوق علم دین تذکرہ امیرِ اہلسنّت
20 - 50
حصہ میں عبادت ، ایک حصہ میں مطالعہ اور بقیہ ایک حصہ میں آرام فرماتے تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں:'' مجھے اپنے والد کی ميراث ميں سے تيس ہزار درہم ملے تھے ان ميں سے پندرہ ہزار ميں نے علمِ نحو،شعر و ادب اور لغت وغيرہ کی تعليم و تحصيل ميں خرچ کيا اور پندرہ ہزار حديث و فقہ کی تکميل پر۔''
 (تاريخ بغداد،ج۲،ص۱۷۰ دار الکتب العلميہ بيروت)
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
 (6) حضرت شاہ عبدالحق دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا شوقِ علم
     مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثین ، حضرتِ علامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی علیہ ر حمۃ اللہِ القوی اپنی کُتُب بینی کا حال بتاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :'' مطالعہ کرنا میرا شب وروز کا مشغلہ تھا ۔ بچپن ہی سے میرا یہ حال تھا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ کھیل کود کیا ہے؟آرام وآسائش کے کیا معانی ہیں ؟ سیر کیا ہوتی ہے ؟بارہا ایسا ہوا کہ مطالعہ کرتے کرتے آدھی رات ہوگئی تو والد ِ محترم سمجھاتے : ''بابا! کیا کرتے ہو؟''یہ سنتے ہی میں فوراً لیٹ جاتا اور جواب دیتا :''سونے لگا
Flag Counter