Brailvi Books

قسط 4: شوق علم دین تذکرہ امیرِ اہلسنّت
19 - 50
طالب العلم نے سالن کا خود انتظام کر ليا اور سالن بھی اتنا کثير و لطيف کہ سينکڑوں برس گزر جانے کے باوجود کم نہيں ہوا اور ہميشہ تازہ ہی رہا اور وہ کيا!! دريائے دجلہ کا پانی،روزانہ يہ ايک کلچہ دريا کے پانی ميں تر کر کے کھا ليتے اور شبانہ روز انتہائی محنت کے ساتھ سبق پڑھتے يہاں تک کہ جب کلچے ختم ہو گئے تو مجبوراً اُستاذ کی درس گاہ کو خير باد کہنا پڑا۔''
 (تاريخ بغداد،ج۸ص۲۳۵ دار الکتب العلميہ بيروت)
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
 (5) امام محمد شیبانی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا شوقِ علم
    اِمام محمد شیبانی علیہ رحمۃ اللہ الغنی ہميشہ شب بیداری فرمايا کرتے تھے اور آپ کے پاس مختلف قسم کی کتابيں رکھی ہوتی تھيں جب ايک فن سے اکتا جاتے تو دوسرے فن کے مطالعے ميں لگ جاتے تھے ۔یہ بھی منقول ہے کہ آپ اپنے پاس پانی رکھا کرتے تھے جب نيند کا غلبہ ہو نے لگتا تو پانی کے چھينٹے دے کر نيند کو دور فرماتے اور فرمايا کرتے تھے کہ نيند گرمی سے ہے لہٰذا ٹھنڈے پانی سے دور کرو ۔
 (تعلیم المتعلم طریق التعلم ،۱۰)
آپ کومطالعے کا اتنا شوق تھا کہ رات کے تین حصے کرتے ،ایک
Flag Counter