Brailvi Books

قسط 4: شوق علم دین تذکرہ امیرِ اہلسنّت
18 - 50
لقب کی وجہ يہ ہوئی کہ ايک دن امام ابن جُرَيج رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی درسگاہ ميں احاديث کی سماعت اور کتابت کر رہے تھے کہ اِتنے ميں سڑک پر ايک ہاتھی گزرا۔تمام طلبہ درس چھوڑ کر ہاتھی ديکھنے چلے گئے مگر يہ اپنی جگہ پر بيٹھے رہے امام ابن جريج رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا کہ ضحاک تم ہاتھی ديکھنے کيوں نہيں گئے!آپ نے عرض کيا :'' حضور!ہاتھی آپ کی صحبت سے بڑھ کر نہيں،ہاتھی تو پھر بھی ديکھ ليں گے مگر حضور کا حلقہ درس پھر کہاں ملے گا!''يہ جواب سن کر امام ابن جريج نے فرمايا کہ اَنْتَ النَّبِيل يعنی تم نبيل (بہت شاندار) ہو۔
 (تہذيب التہذيب،ج۴ص۷۹ دارالفکر بيروت)
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
 (4) حافظُ الحدیث علیہ رحمۃ اللہ المجیب کا شوقِ علم
    حافظ الحديث''حجاج بغدادی'' علیہ رحمۃ اللہ الھادی جب حضرت شَبَابہ محدث رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے يہاں علمِ حديث پڑھنے کے لئے جانے لگے تو ان کی کُل پُونجی اتنی ہی تھی کہ اُن کی غريب ماں نے ايک سو''کلچے'' پکا دئيے تھے جن کو وہ ايک مٹی کے گھڑے ميں بھر کر اپنے ساتھ لے گئے روٹياں تو ماں نے پکا دی تھيں ہونہار
Flag Counter