ایک دن کسی علمی مجلس میں حدیثِ پاک کی مشہور کتاب ''مُسلم شریف '' کے مؤلف اِمام مسلم بن حجاج قُشَیری علیہ رحمۃ اللہ القوی سے کسی حدیث کے بارے میں اِستفسار کیا گیا تو آپ نے گھر آکر وہ حدیث تلاش کرنا شروع کر دی ۔ قریب ہی کھجوروں کا ٹوکرا بھی رکھا ہوا تھا ۔ آپ حدیث کی تلاش کے دوران ایک ایک کھجور اٹھا کر کھاتے رہے ۔ دورانِ مطالعہ امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اِستغراق اور اِنہماک کا یہ عالَم تھا کہ کھجوروں کی مقدار کی جانب آپ کی توجہ نہ ہوسکی اور حدیث ملنے تک کھجوروں کا سارا ٹوکرا خالی ہوگیا ۔ غیر اِرادی طور پر اتنی زیادہ کھجوریں کھا لینے کی وجہ سے آپ بیمار ہوگئے اور اِسی مرض میں آپ کا انتقال ہوگیا ۔