حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نصیحت کے اَنمول موتی عنایت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:دوسری مثال جاہل مفتی (کی)ہے کہ لوگوں کو غَلَط فتوے دے کر خود بھی گمراہ و گنہگار ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی کرتا ہے ۔ طَبِیب ہی کی طرح آج کل مولوی بھی ہو رہے ہیں کہ جو کچھ اس زمانہ میں مدارِس میں تعلیم ہے وہ ظاہر ہے !اوّل تو درسِ نظامی جو ہندوستان کے مدارس میں عُمُومًا جاری ہے اُس کی تکمیل کرنے والے بھی بہت قلیل اَفراد ہوتے ہیں عُمُوماً کچھ معمولی طور پر پڑھ کر سَنَد حاصل کر لیتے ہیں اور اگر پورا درس بھی پڑھا تو اس پڑھنے کا مقصد صرف اِتنا ہے کہ اب اتنی اِسْتِعْداد ہوگئی کہ کتابیں دیکھ کر محنت کر کے علم حاصل کرسکتا ہے ورنہ درس نظامی میں دینیات کی جتنی تعلیم ہے ظاہر کہ اِس کے ذریعہ سے کتنے مسائل پر عُبُورہوسکتا ہے مگر اِن میں اکثر کو اتنا بیباک پایا گیا ہے کہ اگر کسی نے اِن سے مسئلہ دریافت کیا تو یہ کہنا ہی نہیں جانتے کہ مجھے معلوم نہیں یا کتاب دیکھ کر بتاؤں گا کہ اِس میں وہ اپنی توہین جانتے ہیں اَٹْکَل پَچُّو جی میں جو آیا کہہ دیا۔ صحابہ کبار و ائمہ اعلام (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)کی زندگی کی طرف اگر نظر کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ باوجود زبردست پایہ اِجْتِہاد رکھنے کے بھی وہ کبھی ایسی جرأت نہیں کرتے تھے جو بات نہ معلوم ہوتی اُس کی نسبت صاف