| قسط 4: شوق علم دین تذکرہ امیرِ اہلسنّت |
ہے کہ عقائد سے پورے طورپر آگاہ ہو اور مُسْتَقِل ہو اور اپنی ضروریات کو کتاب سے نکال سکے بغیر کسی کی مدد کے(مزید فرماتے ہیں کہ)صرف کُتُب بِینی (یعنی کتابیں پڑھنا)کافی نہیں بلکہ علم اَفواہِ رِجال سے(یعنی علم والوں سے گفتگوکرکے) بھی حاصل ہوتا ہے۔ ''
کیا سَنَد یافْتَہ ہی عالِم ہوتا ہے؟
امامِ اَہلسنّت مجددِ دین وملت اعلیٰ حضرت مولاناشاہ اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں ''سند کوئی چیز نہیں ،بہتیرے سَنَد یافْتَہ محض بے بہرہ (یعنی بے علم ) ہوتے ہیں اورجنہوں نے (باقاعدہ)سَنَدنہ لی ان کی شاگردی کی لِیاقَت(یعنی صلاحیت)بھی ان سَنَد یافتوں میں نہیں ہوتی ،عِلْم ہونا چاہئيے ،الخ۔۔۔۔۔۔''
(فتاوٰی رضویہ ج۲۳ص۶۸۳)
مذکورہ بالا فرمان سے معلوم ہوا کہ باقاعدہ طور پرکسی دارُالعُلوم میں داخِلہ لے کر درسِ نظامی (یعنی عالِم کورس)کا کورس مکمل کر کے سندِ فراغت حاصل کرنا عالم ہونے کے لئے شَرْط نہیں۔
نصیحت کے اَنمول موتی
مدارِس وجامعات کے سندیافتگان کو بھی صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ