| قسط 4: شوق علم دین تذکرہ امیرِ اہلسنّت |
مسائل کا سیکھنا فرض ہے مگر مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کو ان کی تعریفات تک نہیں معلوم ! ہم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ علمِ دین سیکھنے کی خود بھی کوشِش کریں اور دیگر مسلمانوں کو بھی اس کی ترغیب دیں ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حُصُولِ عِلْم کے ذرائع
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! علمِ دین کے حُصُول کے لئے مُتَعَدِّد ذرائع ہیں مثلاً(۱)کسی دارُالعلوم یا جامعہ کے شعبہ درسِ نظامی میں داخلہ لے کر باقاعدہ طور پر علمِ دین حاصل کرنا (۲)علمائے کرام کی صُحْبَت میں رہ کر علم سیکھنا(۳)دینی کتب کا مطالعہ کرنا(۴) علمائے کرام کے بیانات سننا، وغیرہا ۔ ہم ان میں سے جتنے زیادہ ذرائع اپنائيں گے ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ اسی قَدَر ہمارے علم میں اِضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔
عا لِم کسے کہتے ہیں؟
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 561 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت''کے صَفْحَہ 58پرہے کہ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت ، مُجِدِّدِ دین و ملت شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن نے فرمایا: ''عالم کی یہ تعریف