Brailvi Books

قسط 4: شوق علم دین تذکرہ امیرِ اہلسنّت
11 - 50
نماز ٹوٹ جاتی ہے ،کسی کی قِراءَ ت دُرُست نہیں تو کسی کاسجدہ غَلَط ہے !کئی کئی حج کرنے والے کو حج کے مسائل معلوم نہیں ہوتے !برسوں سے رَمَضانُ المبارک کے روزے رکھنے والے کویہ نہیں پتا ہوتا کہ شرعی اعتبار سے سَحَری کا وقت کب ختم ہوتا ہے ؟ یہ توعبادات کا حال ہے ، جہاں تک مُعامَلات مثلاً خرید وفروخَت، نِکاح وطَلَاق ، اُجْرَت دے کر کوئی کام کروانے کا تعلق ہے تو علمِ دین سے محرومی کے باوُجُود کوئی بھی کام کرتے وقت عُمُومًا اُسکی شرعی حیثیت معلوم ہی نہیں کی جاتی کہ ہم جو کچھ کرنے جارہے ہیں وہ جائز ہے یا ناجائز؟ عقائد کا معاملہ سب سے زیادہ نازُک ہے کہ ہماری اکثریت تشویش کی حد تک اپنے عقائد کی تفصیل سے لاعلم ہے جس کی وجہ سے ایسے کلمات بھی بول دئيے جاتے ہیں جنہیں علمائے کرام نے کُفْرقَرار دیا ہوتاہے ۔۱؎ الغرض جہالت کا ایک طوفان برپا ہے ، جھوٹ، غِیبَت، چُغْلی ، اَمانت میں خِیانَت ، والدین کی نافرمانی ، مسلمانوں کو بلاوجہِ شرعی اَذِیّت دینا ، بُغْض وکِینَہ، تَکَبُّر، حَسَد جیسے کتنے ہی ایسے مُہلِکات (مُہْ۔لِ۔کات) ہیں جن کے