| قسط 4: شوق علم دین تذکرہ امیرِ اہلسنّت |
و بالِغ مردوعورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عین ہے۔ اِسی طرح ہر ایک کیلئے مسائلِ حلال و حرام بھی سیکھنا فرض ہے۔ نیز مسائلِ قلب( باطنی مسائل) یعنی فرائضِ قَلْبِیہ ( باطنی فرائض) مَثَلاً عاجِزی و اِخلاص اور توکُّل وغیرہا اور ان کو حاصِل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مَثَلاً تَکَبُّر ، رِیاکاری، حَسَد وغیرہااور ان کا عِلاج سیکھنا ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔
(ماخوذاز فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجَہ،ج۲۳، ص ۶۲۳،۶۲۴)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ہماری حالتِ زار
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مندرجہ بالا شَرْعی اَحکام سے معلوم ہوا کہ علمِ دین حاصل کرنا محض چند اَفراد کی ذمّہ دار ی نہیں بلکہ اپنی موجودہ حالت کے مطابق مسائل سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے مگر افسوس آج کا مسلمان زندگی کی ضَرُورَتوں ، سَہُولَتوں اورآسائِشوں کے حُصول میں اِتنا گُم ہوگیا کہ اُس کے پاس علمِ دین سیکھنے کا وقت ہی نہیں ۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ سالہاسال سے نماز پڑھنے والے کو وُضُوکا صحیح طریقہ تک نہیں آتا ، یا وہ نماز میں ایسی غَلَطِیوں کا عادِی ہوچکا ہوتا ہے جن سے