دروازہ کھل جاتا ہے پھر اس کی نحوست سے بارہا دنیا میں یہ آفت آتی ہے کہ گھر ٹوٹ جاتا ہے۔
مدینہ10:ہاں اگر واقِعی شوہر ظلم کرتاہے یا سسرال والے ستاتے ہیں تو صرف ایسے شخص کو اچّھی نیّت کے ساتھ فریاد کی جائے جو ظلم سے بچا سکتا ،صلح کرواسکتا ہو یا اِنصاف دلواسکتا ہو،باقی صرف بھڑاس نکالنا،دل ہلکا کرنے کیلئے''گھر کی باتیں '' میکے یا سہیلیوں کے پاس کرنا غیبتوں اور تہمتوں وغیرہ کے گناہوں میں ڈال کر سننے سنانے والوں کو جہنّم کا حقدار بناسکتا ہے
مدینہ11:بالفرض شوہر یا ساس وغیرہ کی کسی حَرَکت سے کبھی دل کو ٹھیس پہنچے تو خود کو قابو میں رکھئے، یہ آپ کے اِمتحان کا موقع ہے کہ یا تو زبان ودل کو قابو میں رکھ کر صبر کرکے جنّت کی لازوال نعمتوں کو پانے کی سعی کیجئے یا زَبان کی آفتوں میں پڑ کر شریعت کا دائرہ توڑ کر اپنے آپ کو جہنَّم کی حقدار ٹھہرائیے۔
مدینہ12:اگرچہ آپ کتنی ہی مصروف ہوں ،خواہ نیند کے مزے لُوٹ رہی ہوں ،جُوں ہی شوہر آواز دے، ثوابِ عظیم پانے کی نیَّت سے فوراً لَبَّیک (یعنی