مدینہ6:اگر کسی خطا بلکہ غلط فہمی کی بنا پر بھی میاں ڈانٹ ڈپٹ کرے یا بالفرض مارے تو ہنسی خوشی سہہ لیجئے کہ اس میں آپ کی آخِرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی بھلائی ہے اوران شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ گھرامن کا گہوارہ رہے گا۔
مدینہ7:اگر سامنے زبان چلائی،منہ پُھلایا،برتن پچھاڑے ،میاں کا غصہ بچوں پر اُتارا اور اسی طرح کی دیگر نامُناسِب حرکتیں کیں تو اِس سے حالات سنورنے کے بجائے مزید بگڑیں گے ،یہ اچھی طرح گِرِہ میں باندھ لیجئے کہ اِس طرح کرنے سے اگر بَظاہِر صُلْح ہو بھی گئی تب بھی دلوں میں سے نفرتیں ختم ہونے کا اِمکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
مدینہ8:میاں کی خامیوں کے بجائے خوبیوں ہی پر نظر رکھئے اور ان کے حق میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتی رہئے۔ ؎