| قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت |
بیٹھے بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم میں منظوم استغاثہ پیش کیا جس میں مضمون کچھ یوں تھا کہ یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰٰلہٖ وسلم! میں آپ کی سنت پر چلنا چاہتا ہوں لیکن لوگ اس طرح کے طرزِ عمل سے میرا دِ ل دُکھاتے ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلََّّ کچھ ہی عرصے میں ایک اورجگہ رشتے کی ترکیب بن گئی اور شادی بھی ہوگئی۔
ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو جب یاد آگئے ہیں سب غم بھلا دئیے ہیں
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مُفَسِّرِشہیر، حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی اِس تکلیف دہ صورتِ حال کی عکاسی کرتے ہوئے اپنی کتاب ''اسلامی زندگی '' کے صفحہ 36 تا 39پرلکھتے ہیں:''میں نے بہت مسلمانوں کو کہتے سنا کہ ہم داڑھی والے کو اپنی لڑکی نہ دیں گے،لڑکا شوقین چاہئے اور بہت جگہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لڑکی والوں نے دولہا سے مطالبہ کیاکہ داڑھی منڈوا دو تو لڑکی دی جاسکتی ہے،چنانچہ لڑکوں نے داڑھیاں منڈوائیں، کہاں تک دکھ کی باتیں سناؤں؟یہ بھی کہتے سنا گیاکہ نمازی کو لڑکی نہ دیں گے، وہ مسجد کا ملّاں ہے، ہماری لڑکی کے ارمان