وشیطان کی چالوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے،نفرتیں مت بڑھائیے۔
مدینہ11:زبان سے بتانے میں غصّہ آجاتا ہو اور بات بگڑ جاتی ہو تو اگر فریقین ایسے موقع پر ایک دوسرے کو تحریری طور پر سمجھانے کا معمول بنائیں تو ان شاء اللہ عَزَّوَجَلّ َجھگڑے کی نَوبت نہیں آئے گی۔
مدینہ12:ہوٹل یا بازار کی غِذا کی مانند لذیذ اَغذِیَہ(یعنی غذائیں) بنانے کا زوجہ سے بِالجَبر مُطَالَبہ کرنا نفس کی پیروی اور اس کے نہ بنانے پر طنزومُزاح ،طَعن و تَشنِیع اور زبر دستی کی دل آزاری کرنا شیطان کی خوشی کا سامان ہے۔
مدینہ13:اپنی والِدہ وغیرہ کی شکایت پر بغیر شَرعی ثُبُوت کے زوجہ کو جھاڑنا یا مارنا وغیرہ ظلم ہے اور ظالِم جہنَّم کا حقدار۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' ظلم جہنَّم میں لے جانے والا ہے۔''