Brailvi Books

قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت
76 - 86
بربادیئ آخِرت کا باعث بن سکتا ہے۔

مدینہ7:جس طرح عام مسلمانوں کی دل آزاری حرام ہے اُسی طرح بِلا مصلحتِ شرعی بیوی کی دل آزاری میں بھی جہنَّم کی حقداری ہے۔

مدینہ8:اگر کبھی غصہ آجائے اور زوجہ پر ناحق زبان چل جائے یا بلا مصلحتِ شرعی ہاتھ اُٹھ جائے تو توبہ بھی واجِب اور تلافی بھی لازِم ۔بغیر شرمائے اور بغیر اپنی کسرِ شان سمجھے اُس سے نہایت لَجَاجت ونَدَامَت کے ساتھ اس طرح معذرت کیجئے کہ اُس کا دل صاف ہوجائے اوروہ واقِعۃً مُعاف کردے۔ ہر جگہ رَسمی SORRYبول دینا کا م نہیں دیتا نہ اس طرح حقُّ العَبد سے یقینی خَلاصی ہوتی ہے ۔جیسا جُرم ویسی مُعافی تَلافی۔

مدینہ9:کبھی آپ کی پُکار پر جواب نہ ملے تو بے تَحاشا برس پڑناسِفلہ پن ہے، حسنِ ظَن سے کا م لیجئے کہ بے چاری نے سُنانہ ہوگا یا کوئی اور مجبوری مانِع ہوئی ہوگی۔

مدینہ10:کبھی کپڑے کی اِستری برابر نہ ہوئی ، کھانے میں نمک مرچکم وبیش ہوا،تازہ کھانا پکا کرنہ دیا، دوسرے دن کا گرم کرکے یا ٹھنڈا ہی رکھ دیا ،برتن برابرنہ دُھل پائے تو جارِحانہ انداز سے حُکم چلانے اور ڈانٹ پلانے کے بجائے نرمی سے تَفْہِیم (یعنی سمجھانا)،اِزْدِیَادِ حُبّ(یعنی مَحبَّت میں اضافے) کا باعث ہوگی۔نفس