یاد رکھ تُو نے اگر کھولی زَباں سُسرال میں پھنس کے رہ جائے گی بیٹی ! قَضیوں کے جنجال میں
میری پیاری بیٹی سُن فیضان ِ سنّت پڑھ کے تُو اِلتجا ہے روز دینا درس اپنے گھر پہ تُو
گر نصیحت پر عمل عطّاؔر کی ہوگا تِرا اِن شاء اللہ اپنے گھر میں تو سُکھی ہوگی سدا