اپنے شوہر کی اِطاعت سے نہ غفلت کرنا تُو حَشر میں پچھتائے گی اے پیاری بیٹی ورنہ تُو
میری بیٹی! یا الہٰی! نابنے غصّے کی تیز یہ کرے سُسرال میں ہر دم لڑائی سے گُریز
یاد رکھ! تُو آج سے بس تیرا گھر سُسرال ہے نفرتِ سُسرال سُن لے آفتوں کا جال ہے
ماں سمجھ کر ساس کو،خدمت جو کرتی ہے بَہُو راج سارے گھر پہ سُن لے تُو وہ کرتی ہے بَہُو
ساس اور نَندوں کی خدمت کرکے ہوجا کامیاب اِن کی غِیبت کرکے مت کر بیٹھنا خانہ خراب
ساس اور نَندیں اگر سختی کریں تو صبر کر صبر کر بس صبر کر چَلتا رہے گا تیرا گھر
ساس اور نَندوں کا شِکوہ اپنے مَیکے میں نہ کر اس طرح برباد ہو سکتا ہے بیٹی تیرا گھر۱؎
میکے کے مت کر فضائل تو بیاں سسرال میں۲؎ اب تُو اس گھر کو سمجھ اپنا ہی گھر ہر حال میں
ساس چِیخی تُو بھی بِپھری اور لڑائی ٹھن گئی ہے کہاں بھُول ایک کی ' دو ہاتھ سے تالی بجی