| قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت |
یَاالہٰی! دے سعادت اِن کوحج کی بار بار بار بار اِن کو دِکھا میٹھے محمد کا دِیار ہو بقیعِ پاک میں دونوں کو مدَفن بھی عطا سبز گنبد کا تجھے دیتا ہوں مولیٰ واسطہ یہ میاں بیوی رہیں جنّت میں یکجا اے خدا یا الہی ! ہے یہی عطّاؔر کے دل کی دُعا
اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وَسلّم صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مَدَنی سھرا (اسلامی بہنوں کے لئے)
(از شیخ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت برکاتہم العالیہ)
تجھ کو ہو شادی مبارک اب ہے تیری رُخصتی رُخصتی میں تیری پنہاں رخصت ہے قبر کی ۱؎ گھر تِرا ہو مُشکبار اور زندگی بھی پُربہار رب ہو راضی خوش ہوں تجھ سے دو جہاں کے تاجدار میری بیٹی کا خدایا گھر سدا آباد رکھ فاطِمہ زہرا کا صَدقہ دو جہاں میں شاد رکھ یہ میاں بیوی الہٰی مَکرِ شیطان سے بچیں یہ نمازیں بھی پڑھیں اور سُنتّوں پر بھی چلیں یہ میاں بیوی چلیں حج کو الہٰی! بار بار بار بار ان کو دِکھا میٹھا مدینہ کردگار مَیکا و سُسرال تیرے دونوں ہی خوشحال ہوں دو جہاں کی نعمتوں سے خوب مالا مال ہوں