Brailvi Books

قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت
71 - 86
مَدَنی سہرا (اسلامی بھائیوں کے لئے)
(از شیخ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت برکاتہم العالیہ)

    (اے پھولوں سے سجی ہوئی کار میں سُوار ہو کر جگمگاتے حجرئہ عروسی کی طرف خوشی خوشی جانے والے عارِضی دولہا ! یاد رکھ ! عنقریب تجھے پھولوں سے لدے ہوئے جنازے میں سُوار ہو کر کیڑے مکوڑوں سے اُبھرتی ہوئی گُھپ اندھیری قبر میں جانا پڑنا ہے۔ عطار ِ گنہگار کے نزدیک حقیقی شادی(خوشی) قبر میں اِیمان سلامت لے جانا ہے ۔ آہ ! کاش ! بقیع)
فضلِ مولیٰ سے غلام احمد رضا دولہا بنا		خوش نما خوش رنگ پھولوں کا ہے سر سہراسجا

اِن کی ''شادی خانہ آبادی'' ہو ربِّ مصطفٰے 		اَزپئے غوثُ الوری بہرِ امام احمد رضا

اِن کی زوجہ یا خدا کرتی رہے پردہ سَدا			اِن کی بیوی کو الہٰی بخش توفیقِ حیا

تو سَدا رکھنا سلامت اِن کا جوڑا یا خدا 		گھر کے جھگڑوں سے بچاناتُو انہیں ربُّ العلےٰ 

اِن کو خوشیاں دو جہاں میں تُو عطا کرکِبریا	اِن پہ رَنج و غم کی ناچھائے کبھی کالی گھٹا

آفتِ فیشن سے ہر دَم اِن کو تو مولیٰ بچا		یاَ الہٰی! اِن کا گھر گہوارئہ سُنَّت بنا

ان کو امّت میں اضافے کا سبب مولیٰ بنا		نیک اور پرہیز گار اولاد کردے تُو عطا

سادگی سے اس طرح گھر ان کا مہکے یا خدا		پھُول جیسا کہ مہکتے ہیں مدینے کے سدا

یہ غلامِ احمد رضا جب تک یہاں زندہ رہے 	خُوب خدمت سنّتوں کی یہ سدا کرتا رہے
Flag Counter