اِس حِکایت کو سن کر شادیوں میں بے ہودہ فنکشن برپا کرنے والوں اور ان میں شریک ہوکر گانے باجے کی دُھنوں پر ہنس ہنس کر خوشی کے نعرے بُلند کرنے والوں کی آنکھیں کُھل جانی چاہئیں۔یاد رکھئے !حضرت سیِدُّنا عبدا للہ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے منقول ہے ،''جوہنس ہنس کر گناہ کریگا وہ روتا ہوا جہنم میں داخِل ہوگا۔''
(مُکاشفۃ القلوب،الباب السادس والثمانون فی الضحک والبکاء والباس،ص۲۷۵)
غورکیجئے!کون سا ''جوڑا'' آج سُکھی ہے؟کم و بیش ہرجگہ خانہ جنگی ہے،کہیں ساس بہو میں مورچابندی ہے تو کہیں نند اور بھاوج میں ٹھیک ٹھاک ٹھنی ہے۔بات بات پر ''روٹھ مَن''کا سلسلہ ہے۔ایک دوسرے پر جادو ٹونے کروانے کے الزامات ہیں،یہ سب کہیں شادیوں میں غیر شرعی حَرَکات کانتیجہ تو نہیں؟کیوں کہ آج کل جس کے یہاں شادی کا سلسلہ ہوتا ہے وہاں اتنے گناہ کئے جاتے ہیں کہ اُن کا شمار نہیں ہوسکتا۔