Brailvi Books

قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت
67 - 86
دھوم دھام سے ناچ گانوں کی دھماچوکڑی میں بیاہی ہوئی دلہن9 ماہ کے بعد پہلی ہی زَچگی میں موت کے گھاٹ اُتَر جائے ۔یا خدانخواستہ دولھا شادی سے پہلے یا چند ہی روز کے بعد دنیا سے چل بسے کیوں کہ موت کہہ کر نہیں آتی ۔ایک دردناک واقِعہ پیشِ خدمت ہے۔

حِکایت:ایک شخص جس کا گھر قبرستان کے قریب تھا اُس نے اپنے بیٹے کی شادی کے سلسلے میں رات ناچ رنگ کی محفِل قائم کی لوگ ناچ کود اور دھما چَوکڑی میں مشغول تھے کہ قبرستان کاسنّاٹا چِیرتی ہوئی دو عَرَبی اشعار پر مُشتمِل ایک گرجدار آواز گُونج اُٹھی یعنی،''اے ناچ رنگ کی ناپائدار لذّتوں میں مُنْہَمِک ہونے والو!موت تمام کھیل کود کو خَتْم کردیتی ہے۔بہت سے ایسے لوگ ہم نے دیکھے جو مسرّتوں اور لذّتوں میں غافِل تھے موت نے انہیں اپنے اہل وعیال سے جُدا کردیا!''راوی کہتے ہیں۔خدا کی قسم !چند دنوں کے بعد دولھا کا انتِقال ہوگیا۔
(ابن ابی دنیا،کتاب الاعتبار واعقاب السروروالاحزان،الرقم۴۱،ج۶،ص۳۱)
آہ!موت کی آندھی آئی اور ٹھٹھہ مسخریوں ،دھما چَوکڑیوں ،سنگیت کی دُھنوں ،چُٹکُلوں اورقہقہوں شادمانیوں اور مسرّتوں ، مچلتے ارمانوں اور خوشی کی تمام راحت سامانیوں کو اُڑا کر لے گئی ۔دولہا
Flag Counter