| قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت |
شادی کے موقع پرامیرِ اہلسنّت مُدَّظِلُہُ الْعَالِی کی طرف سے گھر کے سرپرست کو دیا جانے والا مکتوب
بسم اللہ الرحمن الرحیم ؕ
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ عاجِز و لاچار اور میٹھے میٹھے مصطَفٰے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا غلامِ گنہگار،اُمّتِ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بھلائی کا طلبگار ،جن کے یہاں شادی ہورہی ہے اُن کے دُخُولِ جنّت کا خواستگار،سگِ مدینہ پُراَنوار محمد الیاس عطار قادِری رضوی عُفِیَ عنہُ کی جانب سے شادی کی مُسرّتوں اور شادمانیوں سے لبریز ، گھرانے کے سرپرست اور تما م اہلِ خانہ و خاندان کی خدمات میں گنبدِ خَضْرا کو چومتا ہوا جھومتا ہوا خوشگوار وپُربہار سلام اور ڈھیروں مبارَکباد
السّلامُ علیکم وَرحمۃ اللہ برکاتہ الحمد للہ ربِّ العٰلمین علٰی کلِ حال
یااللہ عَزَّوَجَلَّ شادی خانہ آبادی فرما،یااللہ !عَزَّوَجَلَّ مدینہ منوَّرہ کے سدا بہار پھولوں کی طرح دولھا دلہن اور دونوں خاندانوں کو دونوں جہانوں میں مسکراتا رکھ،ان سب کی، تمام اُمت کی اور مجھ پاپی و بدکار کی مغفِرت فرما۔
امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم