چائے وغیرہ اپنی ساس یا نَند کے ساتھ بیٹھ کر ہی پئیں۔ ان کے سامنے ہر گز مُنہ نہ بگاڑئیے' غصّہ نکالنے کے لئے برتن زور سے نہ پچھاڑئیے۔ بچوں کو اس طرح مت ڈانٹئے کہ اُن کوو سوسہ آئے کہ ہمیں سناتی اور کوستی ہے۔ دھونے پکانے کے کام میں پھُرتی دکھائیے مطلب یہ کہ نَجاست کو نَجاست سے ( یعنی الزام کو ہنگامے سے) پاک کرنے کے بجائے ( حکمت و حسنِ اَخلاق کے ) پانی ہی سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح آپ اِن شاأاللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے سُسرال کی منظور نظر ہوجائیں گی اور زندگی بھی خوشگوار ہوجائے گی' سسرال کے حق میں دعا سے غفلت نہ کیجئے کہ دعا سے بڑے بڑے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ صَوم و صلوٰۃ کی پابندی کرتی رہئے ' شرعی پردہ کا اہتمام کیجئے ۔ یاد رہے ! دیور و جیٹھ سے بھی پردہ ہے۔ اپنے گھر میں '' فیضانِ سنت'' کا درس جاری کیجئے۔ خاموشی کی عادت ڈالئے کہ زیادہ بولنے سے جھگڑے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ فیشن پرستی کے بجائے سنّتوں کا راستہ اختیار کیجئے کہ اسی میں بھلائی ہے۔ مجھ گنہگار کو دعائے غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت سے نوازتی رہیں۔ اگر آپ کو میرا یہ مکتوب پسند آئے تو اسے پلاسٹک کوٹنگ کروالیجئے اور خدانخواستہ کبھی گھریلو جھگڑا ہو تو اس کو پڑھ لیجئے۔ والسلام مع الاکرام