مدینہ۷:ساس اور نند سے کسی صورت بھی نہ بگاڑئیے۔ ان کی خوب خدمت کرتی رہئے۔ اگر وہ طنز کریں تو خاموش رہئے۔
مدینہ۸:ساس بالفرض جِھڑکیاں دے تو اپنی ماں کا تصور کرلیجئے کہ وہ ڈانٹ رہی ہیں تو صبر آسان ہوجائے گا۔ ان شاأاللہ عَزَّوَجَلَّ ۔
مدینہ۹:آپ نے کبھی ساس کے غصّہ ہوجانے پر اگرجوابی غصے کا مظاہرہ کیا تو پھر ''نِبھاؤ'' مشکل ترین ہے۔
مدینہ۱۰:سُسرال کی ''بدسُلوکی'' کی فریاد اپنے مَیکے میں کرنا سامنے چل کر تباہی کا استقبال کرنا ہے۔ لہذا صبر کے ساتھ ساتھ اس اُصول پر کاربند رہئے کہ ''ایک چُپ سو (۱۰۰) کو ہرائے '' جواب میں صِرف دعائے خیر کیجئے۔
مدینہ۱۱: عُموماً آج کل سُسرال کی طرف سے بہو پر ''جادو کرتی ہے'' اپنے شوہر کو قابو کرلیا ہے'' وغیرہ وغیرہ الزام لگائے جاتے ہیں' خدانخواستہ آپ کے ساتھ ایسا معاملہ ہوجائے تو آپے سے باہَر ہوجانے کے بجائے حکمتِ عملی اور انتہائی نرمی سے کام لیجئے۔ اپنا کمرہ دن کے وقت بند نہ رکھئے، گھر کے دوسرے افراد کی موجودگی میں اپنے شوہر سے ''کانا پھُوسی'' نہ کیجئے۔ شوہر کی موجودگی میں بھی