| قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت |
مدینہ۳:شوہر نے بیوی کو بلایا اُس نے انکار کردیا اور اُس (شوہر)نے غصّہ میں رات گزاری تو فِرشتے صبح تک اُس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔ (صحیح البخاری ج۲ص۳۸۸ حدیث۳۲۳۷) اور دوسری روایت میں ہے ، (شوہر) جب تک اُس سے راضی نہ ہواللہ عَزَّوَجَلَّ اُس عورت سے ناراض رہتا ہے۔
(کنزالعمال،کتاب النکاح،قسم الاقوال،الحدیث۴۴۹۹۸،ج۱۶،ص۱۶۰(
مدینہ۴:اور ( بیوی) بِغیر اجازت اُس (شوہر) کے گھر سے نہ جائے اگر ایسا کیا تو جب تک توبہ نہ کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور فِرشتے اُس پر لعنت کرتے ہیں۔ عرض کی گئی : اگرچِہ شوہر ظالم ہو؟ فرمایا : اگرچِہ ظالم ہو۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ج۳ص۳۹۷ حدیث۳)
بات بات پر رُوٹھ کر مَیکے چلی جانے والی عورتوں کے لیے مُندَرَجَہ بالا حدیث میں کافی درس ہے۔ مدینہ۵:تین قسم کے لوگو ں کی نماز کو اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا ایک تو وہ عورت جو اپنے شوہر کی اجازت کے بِغیر گھر سے نکلے،دوسرا بھاگاہواغلام اور تیسرا وہ بادشاہ جس کی رعایا اُسے ناپسند کرتی ہو۔
(کنزالعمال ج۱۶ ص۲۵ حدیث۴۳۹۱۹)