| قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت |
آپ کی دنیا و آخِرت کی بہتری کے جذبے کے تحت محض حُصولِ ثواب کی خاطر عرض کرتا ہوں کہ اپنے شوہر کی خدمت میں کوتاہی مت کرنا' اس ضِمن میں میٹھے میٹھے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے6 خوشبودار ارشادات پیش کرتا ہوں: مدینہ۱:قسم ہے اُس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر قدم سے سر تک شوہر کے تمام جسم میں زخم ہوں جن سے پیپ اور کَچ لہو بہتا ہو پھر عورت اُسے چاٹے تب بھی حقِّ شوہر ادا نہ کیا ۔
(مسندِ امام احمد ج۴ص۳۱۸حدیث۱۲۶۱۴)
مدینہ۲: حضرتِ سیِّدُنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں عرض کی کہ دو عورتیں دروازے پر یہ سُوال کرنے کے لئے کھڑی ہیں کہ اگروہ اپنے شوہر اور اپنے زیر کفالت یتیموں پر صَدَقہ کریں تو کیا انکی طرف سے صَدَقہ ادا ہوجائے گا؟ تو رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم نے دریافت فرمایا:'' وہ عورَتیں کون ہیں ؟ ''حضرتِ سیِّدُنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ''انصار کی ایک عورت اور زینب ہے۔'' تو رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ،''ان دونوں کے لئے دُگنا اَجر ہے، ایک رشتہ داری کا اوردوسرا صَدَقے کا ۔''
(صحیح مسلم، کتا ب الزکاۃ ،باب فضل النفقۃ..الخ ، حدیث ۱۰۰۰، ص ۵۰۱ملخصاً)