Brailvi Books

قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت
56 - 86
داخِل ہوا۔''
(قُرَّۃُ العیون،الباب الثامن،فی عقوبۃقاتل۔۔۔۔۔۔الخ،ص۴۰۱)
    یقیناً وہ شخص بڑا بدنصیب ہے جو اپنے بال بچوں کی سنّت کے مطابق تربیت نہیں کرتا' اپنی بیوی کو حتی المقدور پردہ وغیرہ کے احکام نہیں سکھاتا۔ بلکہ از خود فیشن کے سامان مُہیا کرتا ،میک اپ کروا کر بے پردہ اسکوٹر پر بٹھاتا ، شاپنگ سینٹروں کی زینت بناتا اور مَخلوط تفریح گاہوں میں پھرتا پھراتا ہے۔ یاد رکھئے جو لوگ باوُجُود ِقدرت اپنی عورَتوں اور مَحارِم کو بے پردَگی سے مَنْع نہ کریں وہ دَیُّوث ہیں، رَحْمتِ عالمیان صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے،
 ''ثَـلَا ثَۃٌ لَا یدخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ اَبَدًا اَلدَّیوثُ وَالرَّجُلَۃُ مِنَ النِّسَاءِ وَمُدْمِنُ الْخَمْرِ''
 (اَلتَّرْغِیب وَالتَّرْھِیب ج۳ ص۷۶حدیث ۸ دارالکتب العلمہۃ بیروت)
 یعنی ''تین شخص کبھی جنّت میں داخل نہ ہوں گے دیُّوث اورمَردانی وَضْع بنانے والی عورت اورعادی شرابی۔''حضرتِ علامہ علاؤ الدّین حَصْکَفِیْ علیہ رحمۃ اﷲ القوی فرماتے ہیں:
''دَیوثٌ ھُوَ مَن لَّا یَغَارُ عَلٰی اِمْرَأَتِہٖ اَوْ مَحْرَمِہٖ''
(اَلدُّرُالْمُخْتَارج۶ ص ۱۱۳دار المعرفۃ بیروت)
 یعنی ''دَیوث'' وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی بیوی یا کسی مَحرم پر غیرت نہ کھائے۔'' معلوم ہوا کہ باوُجُودِ قدرت اپنی زوجہ، ماں، بہنوں اور جوان بیٹیوں وغیرہ کو گلیوں، بازاروں، شاپنگ
Flag Counter