Brailvi Books

قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت
45 - 86
فرمائی تھیں ۱؎ ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُن سنتوں پر بھی عمل کرنے کی کوشش کی تھی ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
۱؎:امام جزری شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حصنِ حصین میں نقل فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرتِ خاتونِ جنّت فاطمۃُ الزَّہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا عقدِ نکاح حضرت امیر المؤمنین علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ وَجْھَہُ الْکَرِیْم سے کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم گھر میں تشریف لائے اورحضرتِ خاتونِ جنّت رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: پانی لاؤ ، وہ پیالے میں پانی لائیں آپ نے اس میں سے پانی لے کر اس میں کلی کی پھر فرمایا: آگے آؤ،جب وہ آگے آئیں تو ان کے سینے کے درمیان اور سر پر پانی چِھڑکا اور دعا کی :
''اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُعِیْذُھَابِکَ وَذُرِّیتھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیم
یعنی الٰہی !میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔'' پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: پُشت پھیرو جب انہوں نے پشت پھیری تو ان کے دونوں کاندھوں کے درمیان پانی چِھڑکا اور دعا کی ( یعنی مذکورہ بالا دعا جو ترجمے کے ساتھ گزری) پھر حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:پانی لاؤ ،حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ میں سمجھ گیا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھ ہی سے فرمایا ہے۔ چنانچہ میں اُٹھا اور پانی کا پیالہ بھر لایا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پیالے سے پانی لے کر اس میں کُلّی کی پھر فرمایا: آگے آؤ (چنانچہ میں آگے آیا ) تو آپ نے میرے سر اور سامنے کے جسم پر پانی ڈالا پھر دعا فرمائی :
''اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُعِیْذُھَابِکَ وَذُرِّیتھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیم
یعنی الٰہی !میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔''پھر فرمایا: پُشت پھیرو میں نے پشت پھیری تو آپ نے میرے کاندھوں کے درمیان پانی ڈالا اور دُعا فرمائی( یعنی مذکورہ بالا دعا جو ترجمے کے ساتھ گزری) پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے (حضرت علی کَرَّمَ اللہُ وَجْھَہُ الْکَرِیْم سے) فرمایاکہ تم اللہ تعالیٰ کے نام اوربرکت سے اپنی زوجہ کے پاس جاؤ ۔( المعجم الکبیرللطبرانی، الحدیث۱۰۲۱، ج۲۲، ص۴۰۹ماخوذاً والحصن الحصین،مایتعلق بامورالزواج ،ص۷۶)
Flag Counter