Brailvi Books

قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت
44 - 86
بنتِ عطّار کا جہیز
    امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ نے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی بھی سادگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے عین سنّت کے مطابق کرنے کی کوشش فرمائی تھی۔امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے ایک مَدَنی مذاکرے میں کچھ یوں ارشاد فرمایا:میں نے پوری کوشش کی کہ حضرت سیدتنا فاطمہ رضی اللہ تعا لی عنہا کو میرے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے جو جو عنایت فرمایا اس کی پیروی کی جائے ،
واسطے جن کے بنے دونوں جہاں 

اُن کے گھر تھیں سیدھی سادھی شادیاں

                       اس جہیزِ پاک پہ لاکھوں سلام 

                      صاحبِ لولاک پر لاکھوں سلام

                                      (دیوانِ سالک)
مثلاًمشکیزہ ، گیہوں پیسنے والی ہاتھ کی چکی ،نُقرَئی(نُق۔رَ۔ئی یعنی چاندی کے)کنگن پیش کئے، اسی طرح کی دیگر چیزیں کتابوں سے دیکھ کر جو جو میسّر آیا ؛ چٹائی ،مِٹّی کے برتن اورکھجور کی چھال بھراچمڑے کا تکیہ وغیرہ، الحمدللہ عزوجل جہیزمیں پیش کرنے کی کوشش کی ۱؎ اور رخصت کرتے وقت جس طرح سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے خاتون جنت فاطمۃالزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر شفقتیں
Flag Counter