امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کا مقدّس گھرانا دُنیوی مال سے کس قدر اپنا دامن بچاتا ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ مالی تحفے دینے سے منع کرنے کے باوُجودجب ایک اسلامی بھائی نے امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی بارگاہ میں شہزادہ حُضور مُدَّ ظِلُّہُ العَالی کیلئے 100000/=(ایک لاکھ روپے )کا چیک بطور تحفہ بھجوایا تو امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ نے شکریہ کے ساتھ واپس کرتے ہوئے تحریری پیغام بھیجا کہ برائے کرم! دوبارہ اس کیلئے اِصرار نہ فرمائیں۔ بعد اَزْاں (اَزْ۔آں)چیک دینے والے اسلامی بھائی کے گھر والوں کی طرف سے امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے گھر انکی بڑی ہمشیرہ کے پاس ایک لاکھ روپے نقد پہنچانے کی کوشش کی گئی مگر وہاں بھی انہیں مایوسی ہوئی کیونکہ انہوں نے بھی رقم لینے سے معذرت کرلی اور شکریہ کے ساتھ پیسے واپس کردئیے۔
امیرِاہلِسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ جب میں نے حاجی اَحمد عُبید رضاکو 100000/= روپے کے تحفے کے بارے میں بتایا تو شہزادے نے بتایا :''چیک کی سوغات سب سے پہلے میرے پاس ہی پہنچی تھی مگر میرے انکار کرنے پرہی