Brailvi Books

قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت
37 - 86
عطّار دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے گلے میں ہار پہنائے۔
ان کی شادی خانہ آبادی ہو رَبّ ِمصطَفٰے

اَز پئے غوثُ الوَرٰی بہرِامام اَحمدرضا

                      (ارمغانِ مدینہ)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!     صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رَسمِ رُخصتی
     امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ نے پہلے ہی سے تاکید کردی تھی کہ کسی صورت میں کوئی غیر شرعِی رَسْم یا معاملہ نہ ہونے پائے بلکہ وقتِ رخصتی بھی تمام معاملات عین شَرِیْعَتْ کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونے چاہئیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی اِس خواہش کو عملی جامہ پہنایا گیااور آخر تک ہر ہر معاملہ عین شَرِیْعَتْ کے مطابق رکھنے کی ہی کوشش کی گئی۔ حتیٰ کہ رخصتی کے وقت جو خواتین دلہن کو چھوڑنے کیلئے رَسْم کے طور پر آتی ہیں اس سے پیشگی منع کردیا گیا کہ صرف دلہن کا سگا بھائی شَرْعِی پردے کے ساتھ دلہن کولے آئے۔ اس شادی میں امیرِاہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے گھر والوں کی طرف سے بھی اسلامی بہنوں کے لئے
Flag Counter