Brailvi Books

قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت
36 - 86
اگر مسجد میں بانٹتے ہیں تو رش کی وجہ سے مسجد میں شوروغل ہوگا جو احترامِ مسجد کے منافی ہے اور اگر باہر بانٹتے ہیں تو راستے بند ہوجانے کا خدشہ ہے جس سے گزرنے والوں کی حق تلفی ہوگی۔ پھر عوام کے جمِ غفیر کو قابو کرنا بے حد مشکل ہے ، چھینا جھپٹی میں زور آورتو شاید کئی کئی پیکٹ لے اُڑے مگر جو بے چارہ کمزور ہوگاہجوم میں پِس کر رہ جائے، لہٰذا سمجھ نہیں پڑتی تھی کہ کہاں بانٹیں؟ چنانچہ طے ہوا کہ چھوہارے نہیں بانٹے جائیں گے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ اور اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی تشریف آوری
    ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ اجتماعِ ذکر ونعت کے آخری لمحات میں جب منچ پر شہزادہ عطار مُدَّ ظِلُّہُ العَالی اورامیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ تشریف فرما تھے اور امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کاتَحریرکردہ منظوم دعائیہ سہرا پڑھا جارہا تھا۔(جس کے اشعارصفحہ 71پر پیش کئے گئے ہیں۔) اُن اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ اِس دوران میری آنکھ لگ گئی ، کیا دیکھتا ہوں کہ دو بُزُرگ تشریف لائے، مجھے بتایا گیا کہ ان میں ایک حضور سیدناغوثِ اعظم رضی اللہ عنہ اوردوسرے اعلیٰ حضرت امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ہیں۔ پھردونوں بُزُرگوں نے امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ اور شہزادہ
Flag Counter