Brailvi Books

قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت
29 - 86
پیشوا ہو، مثلاً علما و مشایخ، یہ اگر نہ روک سکتے ہوں تو وہاں سے چلے آئیں نہ وہاں بیٹھیں نہ کھانا کھائیں اور پہلے ہی سے یہ معلوم ہو کہ وہاں یہ چیزیں ہیں تو مُقْتَدٰی ہو یا نہ ہو کسی کو جانا جائز نہیں اگرچِہ خاص اُس حصّہ مکان میں یہ چیزیں نہ ہوں بلکہ دوسرے حصے میں ہوں۔

    (9) اگر وہاں لَہْو و لَعِب ہو اور یہ شخص جانتا ہے کہ میرے جانے سے یہ چیزیں بند ہوجائیں گی تو اس کو اس نیَّت سے جانا چاہیے کہ اس کے جانے سے مُنکَراتِ شرعیہ (یعنی گناہوں کے کام)روک دیے جائیں گے اور اگر معلوم ہے کہ وہاں نہ جانے سے ان لوگوں کو نصیحت ہوگی اور ایسے موقع پر یہ حرکتیں نہ کریں گے، کیونکہ وہ لوگ اس کی شرکت کو ضَروری جانتے ہیں اور جب یہ معلوم ہوگا کہ اگر شادیوں اور تقریبوں میں یہ چیزیں ہوں گی تو وہ شخص شریک نہ ہوگا تو اس پر لازم ہے کہ وہاں نہ جائے تاکہ لوگوں کو عبرت ہو اور ایسی حرکتیں نہ کریں۔

    (10) دعوتِ ولیمہ صرف پہلے دن ہے یا اس کے بعد دوسرے دن بھی یعنی دو ۲ ہی دن تک یہ دعوت ہوسکتی ہے، اس کے بعدولیمہ اور شادی ختم۔ پاک وہند میں شادیوں کا سلسلہ کئی دن تک قائم رہتا ہے۔ سنّت سے آگے بڑھنا ریا و سُمعہ