Brailvi Books

قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت
28 - 86
    (4) جو لوگ ولیمے میں بلائے جائیں ان کو جانا چاہیے کہ ان کا جانا دولہا اور اس کے گھر والوں کے لیے مُسرَّت کا باعث ہوگا۔ 

    (5) دعوتِ ولیمہ کا یہ حکم جو بیان کیا گیا ہے، اُس وقت ہے کہ دعوت کرنے والوں کا مقصود ادائے سنّت ہو اور اگر مقصود تَفاخُر(یعنی فخر جتانا)ہو یا یہ کہ میری واہ واہ ہوگی جیسا کہ اس زمانہ میں اکثر یہی دیکھا جاتا ہے، تو ایسی دعوتوں میں نہ شریک ہونا بہتر ہے خصوصاً اہلِ علم کو ایسی جگہ نہ جانا چاہیے۔ 

    (6) دعوت میں جانا اُس وقت سنّت ہے جب معلوم ہو کہ وہاں گانا بجانا، لَہْو و لَعِب نہیں ہے اور اگر معلوم ہے کہ یہ خُرافات وہاں ہیں تو نہ جائے۔ 

    (7) جانے کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں لَغْوِیات ہیں، اگر وہیں یہ چیزیں ہوں تو واپَس آئے اور اگر مکان کے دوسرے حصّے میں ہیں جس جگہ کھانا کھِلایا جاتا ہے وہاں نہیں ہیں تو وہاں بیٹھ سکتا ہے اور کھا سکتا ہے پھر اگر یہ شخص ا ن لوگوں کو روک سکتا ہے تو روک دے اور اگر اس کی قدرت اسے نہ ہو تو صبر کرے۔

    (8) یہ اس صورت میں ہے کہ یہ شخص مذہبی پیشوا نہ ہو اور اگر مُقْتَدٰی و