Brailvi Books

قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت
27 - 86
طرح مہمانوں کو دری پر بٹھا کر تھالوں میں کھانا پیش کیا گیا ۔ کھانے میں صرف اَکْنی چاول( یعنی پلاؤ )اور زردہ تھا۔ مکان کے بیرونی حصّے پر کسی قسم کی مروّجہ سجاوٹ یا برقی قُمقُموں کی ترکیب نہ تھی، ٹیپ پر صِر ف نعتیں چلانے کا سلسلہ تھا۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
''ولیمہ سنّت ہے ''کے دس حُروف کی نسبت سے ولیمہ کے 10مدنی پھول
 (از: شیخ طریقت امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ)

    (1) دعوتِ ولیمہ سنّت ہے۔ ولیمہ یہ ہے کہ شبِ زِفاف کی صبح کو اپنے دوست احباب عزیز و اقارب اور مَحَلّے کے لوگوں کی حسبِ اِستِطاعت ضِیافت کرے ۔

    (2) ولیمے کے لئے بہت زیادہ بِھیڑ کرنا شرط نہیں ہے، دو تین دوست یا رشتہ دار ہوں توبھی ولیمہ ہو سکتا ہے۔

    (3) اس کے لئے پندرہ قسم کی ڈشیں بنانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ، حسب حیثیت دال چاول یاگوشت وغیرہ جوبھی کھاناآپ پیش کر سکتے ہیں، پیش کر دیجئے ولیمہ ہوجائے گا۔
Flag Counter