| قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت |
زِفاف کی صبح مسجد نور(جہاں امامت کی ذمہ داری تھی) میں نمازِ فجر کی اِمامت کی سعادت پائی۔پھر جب ''اَنور'' سے ملاقات ہوئی تو اس نے بڑا تعجب کیا کہ شادی کی پہلی رات گزار کر فجر پڑھائی !یہ کیسے پڑھائی؟میں نے کہا:'' الحمد للہ عَزَّوَجَل پڑھائی اور کوئی غلطی بھی نہیں ہوئی،یہ اللہ عَزَّوَجَلََّّ کا کرم ہے۔'' اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اہلِسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اس حکایت میں اُن دولہا صاحبان کے لئے درس پوشیدہ ہے جو نماز کے پابند ہوتے ہوئے بھی شبِ عروسی میں شرم و حیاء کی وجہ سے غسل نہیں کرتے اور نماز فجر قضاکردیتے ہیں (مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ) حالانکہ ایسا کرنا شرم و حیاء نہیں بلکہ پرلے درجے کی حماقت اور حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔
امیرِ اہلسنّت کا وَلیمہ
اُن دنوں میں بھی کہ جب ٹیبل کرسیاں سجا کر بڑے کرّو فر کے ساتھ ولیمے کئے جاتے تھے ،امیرِ اہلسنّت دامت برکا تہم العالیہ کا ولیمہ شب زِفاف کے دوسرے دن سنّت کے مطابق ایسی سادگی کے ساتھ ہوا تھاکہ جس طرح نیاز وغیرہ میں کھلایا جاتا ہے اسی