امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ مزید فرماتے ہیں کہ میں نے(ناخنوں کو دیکھتے ہوئے) پوچھا:'' نیل پالش کہاں ہے؟'' کہا:'' نہیں لگا ئی۔'' پوچھا : ''کیوں؟'' کہا کہ'' وضو نہیں ہوتا۔''یہ سن کر میرا دل بہت خوش ہوا کہ ما شا ء اللہ عَزَّوَجَلَّ اِن کاپہلے سے ہی ذہن بنا ہو ا ہے۔ ورنہ میں نے نیل پالش اُتارنے والا لوشن لے رکھا تھا کہ اگر نیل پالش لگائی ہوئی تو صاف کردوں گا ۔الحمد للہ عَزَّوَجَلَّ اس کے استعمال کی زندگی میں کبھی نوبت ہی نہیں آئی ۔
مَدنی پھول:حکیم الامت مفتی ا حمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی لکھتے ہیں:آج کل( عورتوں میں )ناخن پر پالش لگانے کا رواج ہے مگر پالش میں جسامت ہوتی ہے اس لئے اگر ناخنوں پر لگی ہوگی تو عورت کا وُضو یا غسل نہ ہوگا کہ پالش کے نیچے پانی نہ پہنچے گا۔