Brailvi Books

قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت
22 - 86
شب ِ عُروسی میں انفراد ی کوشش
     امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ فرما تے ہیں:شادی کی مصروفیات میں دن گزار کر جب شب ِعُروسی کا وقت ہو اتو میرے اَنور ۱؎ (Side friend ) نے مجھے سمجھانا شروع کیا کہ اگر تمہار ی اہلیہ اُلٹے ہاتھ سے کوئی چیز دے تو پہلی رات ہی روک ٹوک شروع مت کردینا (کیونکہ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی بہت پرانی عادتِ مبارکہ ہے کہ جب کوئی آپ کو اُلٹے ہاتھ سے چیز پکڑانے کی کوشش کرے تو آپ دامت برکاتہم العالیہ بڑے احسن انداز میں اس کی اصلاح فرما دیتے ہیں کہ سیدھے ہاتھ سے چیز دیجئے کہ سنّت ہے اُلٹے ہاتھ سے دینا شیطان کا کام ہے)۔ چونکہ وہ میری کیفیت سے واقف تھے ،اسی کے پیشِ نظر پھر سمجھایا کہ ''تم حصولِ عبرت کے لئے موت کی باتیں کرتے رہتے ہو،پہلی ہی رات اسکے سامنے موت کا تذکرہ مت چھیڑ دینا ۔''میں خاموشی سے سنتا رہا۔

اتفاقًاجب رات نوبِیاہتا نے الٹے ہاتھ سے کوئی چیز دینا چاہی تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ حسبِ عادت سیدھے ہاتھ سے دینے کی تلقین کی نیز و ہی موت کا تذکرہ کیا کہ دیکھو یہ خوشیاں جوہیں، یہ سب عارضی ہیں، موت تو دولہا کو بارات سے
Flag Counter