Brailvi Books

قسط 3: سنت نکاح تذکرہ امیرِ اہلسنّت
20 - 86
میں تحریر فرماتے ہیں:خبردار جب بھی آپ کے یہاں (شادی)، نیاز یا کسی قسم کی تقریب ہو، نماز کا وقت ہوتے ہی کوئی مانِع شرعِی نہ ہو تو اِنفرادی واِجتماعی کوشش کے ذریعے تمام مہمانوں سمیت نمازِ باجماعت کیلئے مسجد کا رُخ کریں۔ بلکہ ایسے اوقات میں دعوت ہی نہ رکھیں کہ بیچ میں نَماز آئے اورگہما گہمی یا سُستی کے باعث معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ جماعت فَوت ہوجائے۔ دوپہر کے کھانے کیلئے فوراً بعدِ نمازِ ظہر اور شام کے کھانے کیلئے بعدِ نمازِ عشاء مہمانوں کو بلانے میں غالباً باجماعت نمازوں کیلئے آسانی ہے۔ میزبان، باورچی، کھانا تقسیم کرنے والے وغیرہ سبھی کو چاہیے کہ وقت ہوجائے تو ساراکام چھوڑ کر باجماعت نماز کا اہتمام کریں ۔ شادی یا دیگر تقریبات وغیرہ اور بزرگوں کی ''نیاز'' کی مصروفیت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی (حکم کردہ)''نمازِ باجماعت'' میں کوتاہی بَہُت بڑی غَلَطی ہے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مَد َنی د عوت نامہ
        ایک مرتبہ مَدَنی مذاکرے کے دوران ا میرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے عرْض کی گئی کہ حضور! آپ نے شادی کا دعوت نامہ سب سے پہلے کس کے نام لکھا؟
Flag Counter