میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شادی کی تقریبات میں مصروف ہوکر اکثر لوگ اپنی نمازیں قضا کربیٹھتے ہیں ،مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے شادی ہونے کے بعد بھی حسبِ عادت نمازِ جمعہ، عَصْر، مغرب اور عشا ء باجماعت ادا کی۔
(امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ فرماتے ہیں ) رَبّعَزَّوَجَل کے کرم سے شروع سے ہی باجماعت نماز پڑھنے کا ذہن تھا،جماعت ترک کردینا میری لُغَتْ میں ہی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ جب میری والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تو اس وقت گھر میں دوسراکوئی مرد نہ تھا، میں اکیلاتھا مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ماں کی مَیِّت چھوڑ کرمسجد میں نماز پڑھانے کی سعادت پائی۔ماں کے غم میں دورانِ نمازمیرے آنسوضَرور بہہ رہے تھے،مگر اس صورتِ حال میں بھی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ جماعت نہ چھوڑی ۔اسی طرح شادی والے دن بھی تمام نمازیں باجماعت ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اہلِسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو