''گانے باجے کی ہولناکیاں'' میں لکھتے ہیں ؛
افسوس!صدکروڑ افسوس!آجکل شادی جیسی میٹھی میٹھی سنّت بَہُت سارے گناہوں میں گِھرچکی ہے ، بے ہُودہ رُسومات اس کا جُز وِ لایَنْفَک بن چکی ہیں،مَعاذاﷲ عَزَّوَجَلَّ حالات اس قدر ابتر ہوچکے ہیں کہ جب تک بہت سارے حرام کام نہ کر لئے جائیں اُس وقت تک اب شادی کی سنَّت ادا ہو ہی نہیں سکتی۔مَثَلًامنگنی ہی کی رسم لے لیجئے اِسمیں لڑکا اپنے ہاتھ سے لڑکی کو انگوٹھی پہناتا ہے حالانکہ یہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔شادی میں مر د اپنے ہاتھ مہندی سے رنگتا ہے یہ بھی حرام ہے، مردوں اورعورَتوں کی مخلوط دعوتیں کی جاتی ہیں، یا کہیں برا ئے نام بیچ میں پردہ ڈال دیا جاتا ہے مگرپھر بھی عورَتوں میں غیر مردگھس کر کھانا بانٹتے، خوب وڈیو فلمیں بناتے ہیں ۱؎ شوقیہ تصویر یں بنانے اوربنوانے والوں کو عذابِ خداوندی سے ڈرجانا چاہئے کہ! میرے آقا اعلٰحضر ت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّت نقل کرتے ہیں، رسولُ اﷲعَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم فرماتے ہیں، ہر تصویر بنانے والا جہنَّم میں ہے اور ہر تصویر کے بدلے جو اس نے بنائی تھی اﷲعَزَّوَجَلَّ