بہت ضَروری تھا کہ شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ جیسی عظیم الشان شخصیت کی عکاسی کرنے کے لئے ایسا ''تذکرہ امیرِ اہلسنّت (دامت برکاتہم العالیہ)'' تیار کیا جائے جوسُنی سُنائی باتوں اور غیرمستند یا کمزور روایتوں کا ملغوبہ(یعنی مرکّب) نہ ہوبلکہ اس میں امانت ودیانت کے ساتھ یقین کی حد تک سچی بات نقل کی جائے ۔ جہاں تک ہوسکے روایت کرنے والے سے ذاتی طور پر ملاقات یا رابطہ کرکے تصدیق کر لی جائے،غیر شرعی مبالغہ آرائی سے بچا جائے اس میں جو حکایات شامل کی جائيں انہیں محض نگاہِ عقیدت سے نہیں بلکہ نظرِ حقیقت سے بھی دیکھا جائے تاکہ اِن حکایات کو عقیدت کی کرشمہ سازیاں اورارادت کی دیوانگیاں قرار نہ دیا جاسکے۔اس میں درج معلومات ایسی مستند ہوں کہ تاریخ میں اِسے ماخذِ اوّل کی حیثیت حاصل ہو ۔
اسی اہم تاریخی ذمہ داری کو نبھانے کے لئے دعوتِ اسلامی کی مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ کے شعبہ امیرِ اہلسنّت کا قیام عمل میں لایا گیا ۔امّت کی اصلاح