Brailvi Books

قسط 1: تذکرہ امیرِ اہلسنّت
42 - 49
سامنے گزرتے ہیں ،اُن کے بہت سے اَہم واقعات ہماری نگاہوں کے سامنے پیش آتے ہیں جن میں دوسروں کے لئے نصیحت وعبرت کے متعدد مَدَنی پھول ہوتے ہیں مگر ہم انہیں اپنی یادداشت کی حد تک محدود رکھتے ہیں دوسروں تک پہنچانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔پھر جب کوئی عظیم شخصیت دُنیا سے رخصت ہوجاتی ہے تو اچھا خاصا عرصہ گزرنے کے بعد جب ان کے بارے میں براہِ راست جاننے اور بتانے والے بھی قبر میں جاچُکتے ہیں تو ہم اُن کی حیات وخدمات کو الفاظ کے روپ میں زیبِ قرطاس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس میں نقصان یہ ہوتا ہے کہ اُن کی سیرت کے بہت سے پہلو تشنہ کام رہ جاتے ہیں کیونکہ جانے والے اپنے ساتھ بہت کچھ لے جاتے ہيں ۔اُس وقت سوانحِ حیات لکھنے والا قلمکار بے چارہ کیا کریگا ؟ جن موضوعات پر مواد ہی نہ ہو اُن پر کیا لکھے گا ؟ اپنی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے کتنے نئے مضامین پیدا کریگا؟اُس عظیم شخصیت کی عظمتوں کو صحیفہ قرطاس پر کیونکر منتقل کریگا ؟اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت الشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن نے اپنے دوسرے سفرِ حج کے واقعات بیان کرتے ہوئے اس طرف توجہ دلائی ہے ،چنانچہ آپ فرماتے ہیں :اِس قسم کے وقا ئع(یعنی واقعات) بہت تھے کہ یادنہیں ۔ اگر اسی وقت مُنْضَبَط کر(یعنی لکھ)لیے جاتے محفو ظ رہتے مگر اس کا ہمارے ساتھیوں میں سے کسی کو احساس بھی نہ تھا ۔(ملفوظات،حصہ دُوُم )