Brailvi Books

قسط 1: تذکرہ امیرِ اہلسنّت
41 - 49
سوانِحِ حیات کی ضَرورت واَفادیت
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بلاشبہ بُزُرگان دین علیہم رحمۃ اللہ المبین کی کتابِ حیات کے ہر صفحہ میں ہمارے لئے رَہنمائی کے نِکات ہوتے ہيں۔یہ وہ ہستیاں ہیں جن کے شام وسَحر اپنے رَبّ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا پانے کی کوشش میں گزرتے ہیں ۔ جنت کی نعمتیں ،عقبیٰ کی مسرتیں اوربالخُصوص خالقِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کے دیدار کی لذتیں ان کے پیشِ نظر ہوتی ہیں ۔یہی وہ نُفوسِ قُدسیہ ہیں جن کے ذکر سے دِلوں کو فرحت، رُو حوں کو مُسرت اور فکْر ونَظَر کو جَودَت(یعنی تیزی) ملتی ہے اور ذکر کرنے والے پر رَحمت نازل ہوتی ہے۔ حضرت سُفیان بن عُیَینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرما تے ہیں:
 ''عِنْدَ ذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنْزِلُ الرَّحْمَۃُ
یعنی نیک لوگوں کے ذکر کے وقت رَحمت نازل ہوتی ہے۔''
(حلیۃ الاولیاء ،رقم ۱۰۷۵۰،ج۷،ص۳۳۵،دارالکتب العلمیۃ بیروت)
    اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ان ولیوں کے نقشِ قدم پر چل کر ہم بھی دُنیا وآخرت کی ڈھیروں بھلائیاں پا سکتے ہیں۔غالباً اسی مقدس جذبے کے تحت مؤلفین ومؤرخین نے ان بزرگوں کے حالاتِ زندگی قلمبند کئے ہیں۔مگر چند ایک مثالوں کو چھوڑ کردیکھا جائے توہم اپنے اَکابرین کی حیات وخدمات کو اس کی ظاہری زندگی میں محفوظ کرنے میں ناکام رہے ، وہ جلیل القدر ہستیاں جن کے شام وسحر ہمارے
Flag Counter