Brailvi Books

تذکرہ امام احمدرضا
19 - 21
آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے خلیفہ حضرتِ صدرُ الاَفاضِل مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے بنامِ ’’ خزائنُ العرفان‘‘ اور مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان  نے ’’ نورالعرفان‘‘ کے نام سے حاشِیہ لکھا ہے۔
وفاتِ حسرت آیات
	اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اپنی وفات سے 4ماہ22 دن پہلے خود اپنے وِصال کی خبر دے کر پارہ29 سورۃ الدھر  کی آیت15 سے سالِ انتِقال کا اِسْتِخْراج فرمادیا تھا۔اِس آیتِ شریفہ کے علمِ اَبجَد کے حساب سے  1340عَدَد بنتے ہیں اور یِہی ہجری سال کے اعتبار سے سنِ وفات ہے۔وہ آیتِ مبارَکہ یہ ہے :
وَ یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِاٰنِیَۃٍ مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ اَکْوَابٍ (پ۲۹، الدہر:۱۵)
ترجَمۂ کنزالایمان: اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کُوزوں کا دَور ہوگا۔
(سوانحِ امام احمد رضا ص۳۸۴ )
  
          25 صفر المظفَّر۱۳۴۰ھ مطابِق28 اکتوبر 1921ء کو جُمُعَۃُ الْمُبارَک  کے دن ہندوستان کے وَقت کے مطابِق2 بجکر 38 مِنَٹ(اور پاکستانی وقت کے مطابِق 2بجکر8مِنَٹ) پر ، عَین اذانِ جُمعہ کے وَقتاعلٰی حضرت، اِمامِ اَھلسنّت ، ولیِ نِعمت،عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت،حامیِ سُنّت، ماحِیِ بِدعت،عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْرو بَرَکت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافظ القاری